|
جیسے ہی یہ بندر گاہ مکمل طور پر آپریشن میں
آئیگی۔ لاکھوں غیر ملکی کمپنیاں گوادر میں اپنی
مکمل انویسٹمینٹ کے ساتھ داخل ہوجائینگی۔ |
1 |
|
|
|
| پوری دنیا اور 16 کروڑ پاکستانی اپنی توانائیاں گوادر میں لگا دیں
گے۔ روزانہ اربوں ڈالروں کی انویسٹمینٹ پاکستان
آئے گی۔ |
2 |
|
|
|
| قوم میں نیا جذبہ
اور نیا جوش ولولہ پیدا ہو گا۔ ہر غیر ملکی کمپنی
پاکستانی کے نام رجسٹرڈ ہو گی۔ اور ہر کمپنی میں
کچھ فیصد پاکستانی رکھنے کا قانوں بنایا جائیگا۔
جو آدمی چار ہزار تنخواہ لے رہا ہے ۔ وہ چالیس
ہزار روپے پر چلا جائیگا۔ روٹی اگر چالیس روپے کی
ہو گی تو بھی وہ خوشی سے لے گا۔ |
3 |
|
|
|
| گوادر کے لاکھوں
پلاٹوں پر لاکھوں ہائی رائز بلڈنگز ہونگیں۔ گوادر
شہر کے باہر دنیا بھر کی لاکھوں فیکٹریاں لگیں گی۔
کام کرنے کیلئے انڈیا ، بنگلہ دیش ، فلپائن، سے
لوگ منگوانے پڑیں گے۔ اگر ہر لوچی کی مرسڈیز گاڑی
اور ۵ لاکھ تنخواہ ہوگی۔ تو خزانے میں کوئی کمی
نہیں ہو گی۔ |
4 |
| |
|
|
بم بلاسٹ ، لڑائی جھگڑے، ختم ہو جائنگے کیونکہ یہ
سب چیزیں غربت کی وجہ سے ہیں۔ |
5 |
| |
|
|
جو آدمی امیر ترین بننا چاہتا ہے۔ ہو گوادر کی
اچھی لوکیشن کے پلاٹ بک کروائے۔ کیونکہ ہر پلاٹ پر
500 دکان اور 600 فلیٹ بننے ہیں۔ اگر ایک دکان ایک
کروڑ میں لگائیں تو ہزار کروڑ بنتا ہے۔ |
6 |
| |
|
|
کیونکہ آج تک دنیا میں تیں تجارتی سینٹر بنے ہیں۔
سنگا پور ۔ ہانگ کانگ اور دبئی ان تینوں جگہوں کے
لوگ غریب اور ان پڑھ تھے۔ تجارتی سینٹر بنتے ہی ان
لوگوں کے پاس اپنے اپنے جہاز اور والزرائس اور
مرسیڈیز ہیں۔ |
7 |
| |
|
|
جو لیڈر اسکو کامیاب کرے گا۔ اس کی آنے والی نسلیں
بادشاہ بن کر پوری دنیا پر راج کرینگی۔ کیونکہ
پوری دنیا کا بزنس گوادر سے کنٹرول ہو گا۔ |
8 |
| |
|