|
تجارت کی دنیا کا مرکز یقینا گوادر ہی ہے۔ اس لیاے
کہ یہان سے جن ملکوں کو رسائی ہو گی ان میں زیادہ
تر کے پاس اپنی بندر گاہ نہیں ہے۔ یا پھر ان کے
سمندر گرم پانی کی بجائے ٹھنڈے پانی اور برف سے
ڈھکے ہوئے ہیں۔جیسے کہ افغانستان، روس ، تاجکستان
، آریئجان ، ازیکستان ، قزاقستان، ترکمانستان ،
قرگستان ، جورجیاء ، یوکرائین اور آرمینیا۔ |
17 |
|
|
|
| گوادر کے کھولنے سے
تمام ممالک بڑے سے بڑے شپ گوادر میں لائیں گے ۔
تاکہ اخراجات کم کر سکیں ۔ گوادر دبئی سے پہلے
کھلے سمندر میں ہے۔ اس لیے دبئی میں نہ ہونے کے
برابر شپ جائیں گے۔ سعودی عرب جو کی دبئی سے سامان
خریدتاتھا۔ اس لیے سعودیہ نے 4 عدد نئے شہر گوادر
سے تجارت کے لیے کھول دیے ہیں۔ سعودیہ گوادر سے
مال اٹھا کر ملک عبدللہ بندر گاہ پر ڈالے گا۔ وہاں
سے اپنی ضرورتیں پوری کرے گا۔ افریقہ کو ریڈ سی کے
راستے سامان بھیجے گا ۔ یورپ کو نہر سویز کے راستے
سامان بھیجے گا۔ کویت ، اردن، عمان ،شام کو بیچے
گا۔ اس طرح سعودیہ 30 فیصد ملکوں کو سامان بیچے گا۔
اس وقت چونکہ دنیا کے وسط میں کوئی بڑی بندر گاہ
نہیں ہے۔ اس لیے ہر ملک کو دوسرے ملک میں الگ الگ
شپ بھیجنا پڑتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کو ہر ملک
میں شپ بھیجنے کی بجائے صرف گوادر میں بڑے شپ
بھیجنے پڑیں گے۔جس سے چیزیں سستی ہو جائینگی۔ |
18 |
|
|
|
| گوادر بندر گاہ کا
90 فیصد بزنس سمندر سے سمندر میں ہے ۔ اس کو کسی
روڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر کینیا
کا بڑے سے بڑا شپ چائے کا اسٹاک گوادر میں لاتا ہے۔
تو واپسی پر وہ جاپان کی گاڑیاں ۔ چائنا کا میک اپ
اور گارمنٹس ، امریکا کے کمپیوٹرز۔ کوریا کا کپڑا
اور پاکستان کا کاٹن اپنے اسی شپ میں ڈال کر واپس
چلا جائے گا۔ |
19 |
|
|
|
| ہم نے پوری دنیا کو
دنیا کے سنٹر میں سب سے بڑا بحری سٹور دے دیا ہے،
یہاں دنیا کا سب سے بڑا اور ہر چیز کا سستا ترین
سٹاک ہو گا۔ یہاں پر ساری دنیا کی فیکٹریاں لگیں
گی۔ یہیں مال بنے گا اور یہیں پر بکے گا۔ |
20 |
| |
|
|
روس ، افغانستان اور ریاستیں یہاں پر مال بیچنے
اور سستا مال خریدنے کیلئے خود سڑکیں بنائیں گے ،
میرے لئے گفٹس بھی لائیں گے۔ تب میں ان کو مال
بیچنے اور خریدنے دونگا ۔ افر کسی دن میرے ٹرک پر
کسی نے پتھر بھی مارا تو نہ مین ان کو مال خریدنے
دونگا نہ بیچنے دونگا۔ |
21 |
| |
|
| |
|