|
گوادر شہر مستقبل میں اپنی خوبصورت اور بلند ترین
عمارتوں ۔ تفریحی مقامات ۔ تعلیمی یونیورسٹیوں
صنعتی تجارتی اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کے کسی بھی
شہر سے بہتر ہو گا۔ اس بندر گاہ کو روکنا ہماری
کسی سیاسی پارٹی یا کسی سردار کے بس کی بات نہیں
کیونکہ دنیا کی تمام سپر پاورز اور صنعتی ممالک کو
بندر گاہ کی شدید ضرورت ہے۔ |
9 |
|
|
|
| مستقبل کا
دارلحکومت گوارد ہے ۔ کیونکہ یہ دنیا کا خوبصورت
تریں شہر ہو گا۔ سمندر کے کنارے یورپ ۔ افریقہ ،
امریکہ ۔ مڈل ایسٹ ۔ کے قریب ہو گا۔ کیونکہ اس کا
درجہ حرارت 34 ڈگری سے اوپر نہیں جاتا۔ |
10 |
|
|
|
| گوادر کی بندر گاہ
دنیا کے وسط میں دنیا کی سب سے بڑی اور غہری بندر
گاہ ہے۔ اس کا 90 فیصدبزنس سمندر سے سمندر میں ہے۔ |
11 |
|
|
|
| دبئی کی وسعت دس
ہزار ٹن کا ایک شپ ہے۔ کراچی کی بندر گاہ 20 ہزار
ٹن کا شپ سنبھال سکتی ہے۔ گوادر کی بندر گاہ
لاکھوں ٹن کے 23 شپ سنبھالنے کی اہلیت رکھے گی۔
اور متقبل میں اسکو کئی گنابڑھایا جا سکتا ہے۔ |
12 |
| |
|
|
گوادر کی بندر گاہ وہ واحد بندر گاہ ہے جو ون تھرڈ
ورلڈ کی الیکی بندرگاہ ہو گی۔ جیسے روس ، اور اس ک
ے ارد گرد کے ممالک |
13 |
| |
|
|
امریکہ نے جو وسطی ایشیائی ریاستوں سے معدنیات
نکالے ہیں انکا واحد رستہ گوادر بندر گاہ ہے۔ |
14 |
| |
|
|
دبئی ، کراچی ، عمان کی بندر گاہیں چھوٹی ہیں ۔ ان
بندر گاہون کی شہری آبادیاں بندر گاہوں پر چڑی
ہوئی ہیں۔ زیادہ سامان رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے۔
جب کہ گوادر میں1100کلومیٹر میں پوری دنیا کی فیکٹریان لگیں
گی۔ |
15 |
| |
|
|
چین ،جاپان، کوریا ، تائیوان ، سنگاپور ،
انڈونیشیا ، ملایشیا اور ہانگ کانگ وہ ممالک جہاں
دنیا کی 80 فیصد چیزیں بنتی ہیں۔ اور دنیا کے نقشے
میں انتہائی دائیں طرف ہیں اور اپنی چیزیں ایشا ،
یورپ ، افریقہ اور امریکہ کو بھیجنے کیلئے گوادر
بند گاہ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں |
16 |